صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب الاستماع المكروه وسوء الظن والغضب والفحش - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ذم النفس عن الخروج إلى ما لا يرضي الله جل وعلا بالغضب- باب: ناپسندیدہ بات سننے، بدگمانی، غصہ اور فحش گوئی کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی نفس کو اس بات سے روکے کہ غصے میں وہ کام کرے جو اللہ جل وعلا کو ناپسند ہو
حدیث نمبر: 5689
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ ابن عَمٍّ لَهُ وَهُوَ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي قَوْلاً يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ ، وَأَقْلِلْ لَعَلِّي لا أُغْفِلُهُ ، قَالَ : " لا تَغْضَبْ " فَعَادَ لَهُ مِرَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَغْضَبْ " .احنف بن قیس اپنے چچا سیدنا جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ آپ مجھے کوئی ایسی بات بیان کیجئے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ دے اور مختصر بات بتائے گا تاکہ میں اس سے غفلت کا شکار نہ ہو جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غصہ نہ کرنا۔ انہوں نے کئی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ انہیں یہی جواب دیتے رہے: تم غصہ نہ کرنا۔