صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب الاستماع المكروه وسوء الظن والغضب والفحش - ذكر صب الآنك يوم القيامة في آذان المستمعين إلى حديث أقوام يكرهون ذلك- باب: ناپسندیدہ بات سننے، بدگمانی، غصہ اور فحش گوئی کا بیان - ذکر قیامت کے دن اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا جو لوگوں کی بات سنتا ہے جو وہ ناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 5686
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً ، عَذَّبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ مِنْهُ ، صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جو شخص تصویر بنائے گا اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا یہاں تک کہ اسے اس تصویر میں روح پھونکنی پڑے گی اور وہ نہیں پھونک سکے گا، جو شخص لوگوں کی بات سنے گا حالانکہ وہ لوگ اسے بات نہ سنانا چاہتے ہوں۔ اس کے کانوں میں قیامت کے دن سیسہ ڈالا جائے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے گا اسے اس بات کا پابند کیا جائے گا وہ جو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگوائے اور وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔ “