صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب التواضع والكبر والعجب - ذكر الزجر عن إعجاب المرء بما أوتي من هذه الدنيا الفانية وتبختره في شيء منها- باب: تواضع، تکبر اور خود پسندی کا بیان - ذکر منع کہ انسان اس دنیا کی فانی چیزوں سے جو اسے دی گئیں خود کو متاثر کرے اور ان میں اکڑ کر چلے
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، إِنَّكَ تُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَلْ سَمِعْتَهُ يَقُولُ فِي حُلَّتِي هَذِهِ ؟ فَقَالَ : لَوْلا مَا أَخَذَ اللَّهُ عَلَيَّ فِي الْكِتَابِ ، مَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ ، سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ رَجُلاً مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَتَبَخْتَرُ ، إِذْ أَعْجَبَتْهُ جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ ، فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ الأَرْضَ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بکثرت احادیث بیان کرتے ہیں: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے اس حلہ کے بارے میں کوئی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا اگر وہ حکم نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بیان کیا ہے تو میں تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان نہ کرتا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تکبر کے ساتھ چل رہا تھا اس کے بالوں اور چادروں نے اسے خود پسندی کا شکار کیا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک اس میں دھنستا رہے گا۔ “