صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب التواضع والكبر والعجب - ذكر الزجر عن اتكاء المرء على يده اليسرى خلف ظهره في جلوسه- باب: تواضع، تکبر اور خود پسندی کا بیان - ذکر منع کہ انسان اپنے بیٹھنے میں اپنے بائیں ہاتھ پر پیچھے کی طرف ٹیک لگائے
حدیث نمبر: 5674
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا جَالِسٌ قَدْ وَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي ، وَاتَّكَأْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ؟ " ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى الأَرْضِ وَرَاءَ ظَهْرِهِ .سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پشت کے پیچھے رکھ کر اس کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم اس طرح بیٹھے ہوئے ہو؟ جس طرح وہ لوگ بیٹھتے ہیں جن پر غضب نازل کیا گیا۔ ابن جریج نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: انہوں نے اپنی ہتھیلیاں اپنی پشت کے پیچھے زمین پر رکھی ہوئی تھیں۔