صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما جاء في التباغض والتحاسد والتدابر والتشاجر والتهاجر بين المسلمين - ذكر مغفرة الله جل وعلا ذنوب غير المشاحن في كل اثنين وخميس- باب: مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، منہ موڑنے، جھگڑنے اور قطع تعلقی کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر اللہ جل وعلا کی مغفرت جو ہر پیر اور جمعرات کو غیر دشمنی کرنے والوں کے گناہوں کے لیے ہوتی ہے
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ : يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ ، إِلا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا فِي الْمُوَطَّأِ مَوْقُوفٌ مَا رَفَعَهُ عَنْ مَالِكٍ إِلا ابْنُ وَهْبٍ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ہر ہفتے میں دو مرتبہ لوگوں کے اعمال (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) پیش کئے جاتے ہیں۔ پیر کے دن اور جمعرات کے دن تو ہر مومن شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ ماسوائے اس بندے کے جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی چل رہی ہو تو یہ حکم دیا جاتا ہے۔ ان دونوں کے معاملے کو یوں ہی رہنے دو جب تک یہ دونوں رجوع نہیں کر لیتے۔ (یعنی صلح نہیں کر لیتے۔) “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ” موطا “ میں موقوف روایت کے طور پر منقول ہے امام مالک کے حوالے سے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر صرف ابن وہب نے نقل کیا ہے۔