صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب ما جاء في التباغض والتحاسد والتدابر والتشاجر والتهاجر بين المسلمين - ذكر مغفرة الله جل وعلا في ليلة النصف من شعبان لمن شاء من خلقه إلا من أشرك به أو كان بينه وبين أخيه شحناء- باب: مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، منہ موڑنے، جھگڑنے اور قطع تعلقی کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر اللہ جل وعلا کی مغفرت جو نصف شعبان کی رات میں اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے عطا کرتا ہے، سوائے اس کے جو شرک کرے یا اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی ہو
حدیث نمبر: 5665
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا ، وَابْنُ قُتَيْبَةَ ، وَغَيْرُهُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، وَابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَطْلُعُ اللَّهُ إِلَى خَلْقِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ " .سیدنا معاذ بن جبل یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور شرک کرنے والے اور قطع تعلقی کرنے والے کے علاوہ ساری مخلوق کی مغفرت کر دیتا ہے۔ “