صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب قتل الحيوان - ذكر إرادة المصطفى صلى الله عليه وسلم الأمر بقتل الكلاب كلها- باب: جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر ارادہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کہ تمام کتوں کو مارنے کا حکم دیا
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلا أَنَّ الْكِلابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ ، لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا ، فَاقْتُلُوا مِنْهَا الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ ، قَالَ : وَأَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ حَرْثٍ ، أَوْ صَيْدٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " ، قَالَ : وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلا نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ .سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اگر ایک کتے باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں مار دینے کا حکم دیتا البتہ تم ان میں سے سیاہ فام کتے کو مار دیا کرو۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ کوئی ایسا کتا پالتے ہیں جو کھیت کی حفاظت یا شکار یا جانوروں کی حفاظت کے لئے نہ ہو تو ان کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ ہم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر سکتے ہیں البتہ ہم اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نہ کریں کیونکہ وہ شیاطین سے پیدا کئے گئے ہیں۔