صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
باب قتل الحيوان - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم بعد هذا الأمر زجر عن قتل الكلاب إلا جنسا منها- باب: جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کے بعد کتوں کو مارنے سے منع کیا سوائے ان کے ایک قسم کے
حدیث نمبر: 5651
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلابِ ، حَتَّى إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَقْدُمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِالْكَلْبِ ، فَتَقْتُلُهُ ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْ قَتْلِهَا ، وَقَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کتوں کو مار دینے کا حکم دیا یہاں تک کہ اگر کوئی عورت دیہات سے کتا ساتھ لے آتی تو اسے بھی مار دیا جاتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کتوں کو مارنے سے منع کر دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم دو نقطوں والے سیاہ رنگ کے کتے کو ضرور مارنا کیونکہ وہ شیطان ہے۔