صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
فصل في التعذيب - ذكر الزجر عن قتل الصبر شيئا من ذوات الأرواح- باب: عذاب دینے کے بیان میں ایک فصل - زجر بیان کیا گیا کہ کسی جاندار کو قتل نہ کرے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى ، أَنَّهُ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلاجٍ مَعَ الْعَدُوِّ ، فَأَمَرَ بِهِمْ ، فَقُتِلُوا صَبْرًا بِالنَّبْلِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ " ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدٍ ، فَأَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ .عبید بن یعلیٰ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے۔ وہاں دشمن کے ہمراہ چار اونٹ لائے گئے تو عبدالرحمن بن خالد کے حکم کے تحت انہیں باندھ کر نیزوں کے ذریعے قتل کر دیا گیا۔ اس بات کی اطلاع سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باندھ کر قتل کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ کوئی مرغی بھی ہوتی تو میں اسے بھی باندھ کر (نشانہ بازی نہ کرتا) جب اس بات کی اطلاع عبدالرحمن بن خالد کو ملی تو انہوں نے چار غلام آزاد کئے۔