صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
فصل في التعذيب - ذكر الزجر عن تعذيب شيء من ذوات الأرواح بحرق النار- باب: عذاب دینے کے بیان میں ایک فصل - زجر بیان کیا گیا کہ جاندار کو آگ سے نہ جلایا جائے
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا ، أُتِيَ بِقَوْمٍ قَدِ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلامِ ، أَوْ قَالَ : زَنَادِقَةٍ ، مَعَهُمْ كُتُبٌ ، فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ ، فَأَلْقَاهُمْ فِيهَا بِكُتُبِهِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أَمَّا أَنَا لَوْ كُنْتُ لَمْ أُحَرِّقْهُمْ ، لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ ، فَاقْتُلُوهُ " .عکرمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ لائے گئے جو اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) زندیق ہو گئے تھے۔ ان کے ہمراہ ان کی تحریریں بھی تھیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت آگ جلائی گئی اور انہیں ان کی تحریروں سمیت آگ میں ڈال دیا گیا۔ اس بات کی اطلاع سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو انہوں نے فرمایا: اگر میں ہوتا، تو میں انہیں جلاتا نہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے لیکن میں انہیں قتل کروا دیتا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ (جلانے سے منع کرنے کی روایت یہ ہے) ” تم لوگ اللہ کے عذاب کے مطابق عذاب نہ دو۔ “ (اور ان کو قتل کروانے کی دلیل یہ حدیث ہے) ” جو شخص اپنا دین تبدیل کر لے اسے قتل کر دو۔ “