صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
فصل في التعذيب - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل- باب: عذاب دینے کے بیان میں ایک فصل - بیان کیا گیا کہ اس عمل کو منع کرنے کی وجہ کیا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يُرِيدُ بِهِ صُورَةَ الْمَضْرُوبِ ، لأَنَّ الضَّارِبَ إِذَا ضَرَبَ وَجْهَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ، ضَرَبَ وَجْهًا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص (کسی دوسرے کی) پٹائی کرے تو اس کے چہرے (پر مارنے سے) اجتناب کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت کے مطابق پیدا کیا ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کے ذریعے مراد یہ ہے: جس شخص کی پٹائی ہو رہی ہے اس کی شکل (سیدنا آدم علیہ السلام کی صورت کے مطابق ہے) کیونکہ جب مارنے والا شخص اپنے مسلمان بھائی کے چہرے پہ مارتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اس کی صورت کے مطابق پیدا کیا ہے۔