صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
ذكر الإباحة للمرء أن يقبل ولده وولد ولده- باب: - باب اس اجازت کا کہ انسان اپنے بیٹے اور پوتے کو بوسہ دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5595
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَتُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ ؟ فَمَا نُقَبِّلُهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا أَمْلِكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِنْ قَلْبِكَ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے کہا:۔ کیا آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں۔ ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل سے رحمت کو الگ کر لیا ہے تو پھر میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں۔