صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
ذكر بعض الرجال الذين استثنوا من ذلك العموم وأبيح لهم استعمال ذلك الفعل المزجور عنه- باب: - باب ان چند مردوں کا ذکر جنہیں عمومی ممانعت سے مستثنیٰ قرار دیا گیا اور ان کے لیے مذکورہ فعل جائز ہوا۔
حدیث نمبر: 5583
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، وَلا الرَّجُلُ الرَّجُلَ إِلا الْوَالِدُ الْوَلَدَ " .سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ جسم نہ ملائے البتہ والد اپنی اولاد کا جسم ساتھ لگا سکتا ہے۔ “