صحیح ابن حبان
كتاب الحظر والإباحة— کتاب: ممنوع و جائز کے احکام و مسائل
ذكر الإخبار عما يجب على النساء من غض البصر ولزوم البيوت لئلا يقع بصرهن على أحد من الرجال- باب: - باب اس خبر کا کہ عورتوں پر نگاہ نیچی رکھنے اور گھروں میں رہنے کی ذمہ داری ہے تاکہ ان کی نظر مردوں پر نہ پڑے۔
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ نَبْهَانَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ ، قَالَتُ : فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرَ بِالْحِجَابِ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجِبَا مِنْهُ ، فَقَالَتَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ : أَلَيْسَ هُوَ أَعْمَى ، فَمَا يُبْصِرُنَا وَلا يَعْرِفُنَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ ؟ ! " .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ وہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھیں ہوئی تھیں۔ اس دوران ابن ام مکتوم آ گئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد کی بات ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اس سے پردہ کرو ان دونوں نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا یہ نابینا نہیں ہے یہ تو ہمیں دیکھ بھی نہیں سکیں گے اور ہمیں پہچان بھی نہیں سکیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم دونوں اسے نہیں دیکھ رہی ہو۔