صحیح ابن حبان
كتاب الزينة والتطييب— کتاب: زینت و خوشبو کے احکام و مسائل
باب آداب النوم - ذكر بغض الله جل وعلا النائمين على بطونهم- باب: سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ اللہ جل وعلا پیٹ کے بل سونے والوں سے بغض رکھتا ہے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَسْتَلْقِ الإِنْسَانُ عَلَى قَفَاهُ ، وَيَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا الْفِعْلُ الَّذِي زَجَرَ عَنْهُ : هُوَ أَنْ يَسْتَلْقِيَ الْمَرْءُ عَلَى قَفَاهُ ، ثُمَّ يَشِيلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ ، وَيَضَعَهَا عَلَى الأُخْرَى ، وَذَاكَ أَنَّ الْقَوْمَ كَانُوا أَصْحَابَ مَيَازِرَ ، وَإِذَا اسْتَعْمَلَ مَا وَصَفْتُ ، مَنْ عَلَيْهِ الْمِئْزَرُ دُونَ السَّرَاوِيلِ ، رُبَّمَا تُكْشَفُ عَوْرَتُهُ ، فَمِنْ أَجْلِهِ مَا نَهَى عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” کوئی انسان اپنی گدی کے بل اس طرح نہ لیٹے کہ اس کا ایک پاؤں دوسرے پر ہو۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ فعل جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اس سے مراد یہ ہے: آدمی گدی کے بل یوں لیٹے کہ اس کا ایک پاؤں اوپر ہو اور اسے اس نے دوسرے پر رکھ لیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے وہ لوگ تہبند باندھا کرتے تھے اور جس شخص نے تہبند باندھا ہوا ہو شلوار نہ پہنی ہوئی ہو اگر وہ اس طریقے پر عمل کرے تو ایسا کرنے کے نتیجے میں اس کی شرم گاہ سے پردہ ہٹ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔