صحیح ابن حبان
كتاب الزينة والتطييب— کتاب: زینت و خوشبو کے احکام و مسائل
باب آداب النوم - ذكر الأمر بمسألة الله جل وعلا الغفران لمن أراد أن يأتي مضجعه إن أمسك نفسه وحفظها إن أرسلها- باب: سونے کے آداب کا بیان - بیان کیا گیا کہ جو شخص سونے سے پہلے اللہ سے مغفرت طلب کرے اگر اس نے نفس کو قابو میں رکھا اور اس کی حفاظت کی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ ، فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارَهُ ، فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ ، وَيُسَمِّي اللَّهَ ، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ ، فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنَ ، وَلْيَقُلْ : سُبْحَانَكَ رَبِّي ، بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي ، وَبِكَ أَرْفَعُهُ ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي ، فَاغْفِرْ لَهَا ، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا ، فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے تو وہ اپنے تہبند کے اندرونی حصے کے ذریعے اسے جھاڑ لے اور بسم اللہ پڑھ لے کیونکہ وہ یہ بات نہیں جانتا اس کے بعد اس کے بستر پر کیا چیز آئی تھی پھر جب وہ لیٹنے کا ارادہ کرے تو دائیں پہلو پر لیٹے اور یہ پڑھے۔ ” تو پاک ہے اے میرے پروردگار میں تیری مدد کے ذریعے اپنا پہلو (بستر پر) رکھتا ہوں اور تیری مدد کے ذریعے اسے اٹھاؤں گا اگر تو نے میری جان کو روک لیا (یعنی مجھے موت دے دی) تو اس کی مغفرت کرنا اگر تو نے اسے چھوڑ دیا (یعنی میں دوبارہ بیدار ہو گیا) تو اس چیز کے ہمراہ اس کی حفاظت کرنا جس کے ہمراہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ “