صحیح ابن حبان
كتاب الزينة والتطييب— کتاب: زینت و خوشبو کے احکام و مسائل
ذكر البيان بأن الزور الذي نهى عنه هو أن تستوصل المرأة بشعرها شعر غيرها- باب: - باب اس بیان کا کہ جس جھوٹ سے روکا گیا وہ یہ ہے کہ عورت اپنے بالوں میں دوسرے کے بال لگوائے۔
حدیث نمبر: 5510
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعْرٍ ، يَقُولُ : مَا بَالُ نِسَاءٍ يَجْعَلْنَ فِي رُؤُوسِهِنَّ مِثْلَ هَذَا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَجْعَلُ فِي رَأْسِهَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ غَيْرِهَا ، إِلا كَانَ زُورًا " ، قَالَ الشَّيْخُ : الرِّوَايَةُ كُلُّهَا زُورٌ ، وَالصَّوَابُ زُورٌ أَنْ تُضَمَّ الزَّايُ .سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ بات بیان کی ان کے ہاتھ میں نقلی بالوں کا گچھا تھا۔ آپ نے فرمایا خواتین کو کیا ہے وہ اپنے سر میں یہ استعمال کرتی ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو بھی عورت اپنے سر میں دوسری کے بال استعمال کرتی ہے یہ چیز فریب ہو گی۔ “ شیخ بیان کرتے ہیں: تمام روایات میں لفظ زور (یعنی دھوکہ) ہے لیکن درست یہ ہے یہ لفظ زور ہے جس میں زیر پیش پڑھی جائے گی۔