صحیح ابن حبان
كتاب الزينة والتطييب— کتاب: زینت و خوشبو کے احکام و مسائل
ذكر البيان بأن ذلك بعد المصطفى صلى الله عليه وسلم كان في يد الخليفة بعده صلى الله عليه وسلم- باب: - باب اس بیان کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ انگوٹھی آپ کے خلیفہ کے ہاتھ میں تھی۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ ، فَأَلْقَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " لا أَلْبَسُهُ أَبَدًا " ، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ، وَكَانَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ ، ثُمَّ فِي يَدِ عُمَرَ ، ثُمَّ فِي يَدِ عُثْمَانَ ، حَتَّى هَلَكَ مِنْهُ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔ آپ اس کا نگینہ ہتھیلی کی سمت میں رکھتے تھے۔ لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ وہ آپ کے دست اقدس میں رہی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، یہاں تک کہ وہ ان سے بئر اریس میں گر گئی۔