صحیح ابن حبان
كتاب الزينة والتطييب— کتاب: زینت و خوشبو کے احکام و مسائل
ذكر ما يستحب للمرء تحسين ثيابه وعمله إذا قصد به غير الدنيا- باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ اگر لباس اور عمل میں خوبصورتی دکھانے کا مقصد دنیا نہیں تو یہ مستحب ہے۔
أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْكُرْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النخعي ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، وَلا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا ، وَنَعْلُهُ حَسَنَةً ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ، الْكِبْرُ مَنْ بَطِرَ الْحَقَّ ، وَغَمَصَ النَّاسَ " .سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں ذرے کے وزن جتنا ایمان ہو گا۔ ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں ذرے کے وزن جتنا تکبر ہو گا۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے اس کے کپڑے اچھے ہونے چاہئیں۔ اس کا جوتا اچھا ہونا چاہئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے تکبر یہ ہے آدمی حق کو قبول نہ کرے اور لوگوں کو کم تر سمجھے۔ “