صحیح ابن حبان
كتاب اللباس وآدابه— کتاب: لباس اور اس کے آداب کے احکام و مسائل
ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن خبر زيد بن أبي أنيسة وهم- باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ بعض ناپختہ علماء نے زید بن ابی انیسہ کی حدیث میں وہم کیا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذُكِرَ الإِزَارُ ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنِ الإِزَارِ ، فَقَالَ : أَجَلْ بِعِلْمٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، لا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَفِي النَّارِ ، مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ " .علی بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: تہبند کا معاملہ ذکر کیا گیا، تو میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: آپ مجھے تہبند کے بارے میں بتائیں انہوں نے فرمایا: جی ہاں علم کی بات (میں تمہیں بتاتا ہوں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے نصف پنڈلی سے لے کر ٹخنوں کے درمیان جہاں بھی ہو اس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا، لیکن جو اس سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہو گا اور جو شخص اپنے تہبند کو تکبر کے طور پر لٹکائے گا اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا۔ “