صحیح ابن حبان
كتاب اللباس وآدابه— کتاب: لباس اور اس کے آداب کے احکام و مسائل
ذكر البيان بأن لبس ما وصفنا إنما هو لبس من لا خلاق له في الآخرة- باب: - اس باب میں ذکر ہے کہ بعض اوقات میں مردوں کو ریشم پہننے کی اجازت دی گئی۔
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءٍ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ ، فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لا خَلاقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " ، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ ، وَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَسَوْتَنِيهَا ، وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا " ، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک سیرانی حلہ فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور وفود سے ملاقات کے دن اسے پہن لیا کریں (تو یہ مناسب ہو گا) جب وہ وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے وہ شخص پہنے گا، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قسم کے حلے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک حلہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھی عطا کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ نے مجھے پہننے کے لئے یہ دے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد (نامی شخص) کے حلہ کے بارے میں فلاں بات ارشاد فرمائی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے یہ تمہیں اس لئے نہیں دیا تاکہ تم اسے پہن لو تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ مکہ میں موجود اپنے مشرک بھائی کو پہننے کے لئے دے دیا۔