صحیح ابن حبان
كتاب اللباس وآدابه— کتاب: لباس اور اس کے آداب کے احکام و مسائل
ذكر البيان بأن لبس الحرير ليس من لباس المتقين- باب: - اس باب میں بیان ہے کہ ریشم پہننا متقی لوگوں کا شیوہ نہیں۔
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُّوجُ حَرِيرٍ ، فَلَبِسَهُ ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ، وَقَالَ : " لا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فَرُّوجُ الْحَرِيرِ : هُوَ الثَّوْبُ الَّذِي يَكُونُ عَلَى دُرُوزِهِ حَرِيرٌ ، دُونَ أَنْ يَكُونَ الْكَلُّ مِنَ الْحَرِيرِ ، وَلَوْ كَانَ الْكَلُّ حَرِيرًا مَا لَبِسَهُ ، وَلا صَلَّى فِيهِ ، وَهَذَا مَعْنَى خَبَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِلا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ أَوْ ثَلاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ .سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمی جبہ پیش کیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا پھر آپ نے اس میں نماز ادا کی۔ آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے اسے ناپسند کرتے ہوئے سختی سے اتار دیا اور فرمایا: یہ پرہیزگاروں کے لئے مناسب نہیں ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) فروج حریر سے مراد وہ کپڑا ہے جس کا تانا ریشم کا ہوتا ہے وہ سارے کا سارا ریشم نہیں ہوتا اگر وہ سارے کا سارا ریشم کا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ اسے پہنتے اور نہ ہی اسے پہن کر نماز ادا کرتے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کا بھی یہی مطلب ہے صرف دو یا تین یا چار انگلیوں جتنی (ریشم کی پٹی لگانے) کی اجازت ہے۔