صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
فصل من البر والإحسان - ذكر رجاء الغفران لمن أماط الأذى عن الأشجار والحيطان إذا تأذى المسلمون به باب: فصل نیکی اور احسان - بیان کہ جو شخص درختوں یا دیواروں سے نقصان ہٹائے، مسلمانوں کے لیے، اس کے لیے مغفرت کی امید ہے
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَزَعَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ غُصْنَ شَوْكٍ عَنِ الطَّرِيقِ ، إِمَّا كَانَ فِي شَجَرَةٍ فَقَطَعَهُ فَأَلْقَاهُ ، وَإِمَّا كَانَ مَوْضُوعًا فَأَمَاطَهُ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ بِهَا ، فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى قَوْلِهِ : " لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ " يُرِيدُ بِهِ : سِوَى الإِسْلامِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ایک شخص نے راستے سے کانٹوں کی شاخ ایک طرف کر دی۔ اس شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا، یا تو شاخ درخت میں لگی ہوئی تھی اور اس نے اسے کاٹ کر ایک طرف رکھ دیا تھا یا پھر راستے میں رکھی ہوئی تھی، تو اس نے اسے پرے کر دیا، تواللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا ۔“
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: روایت کے یہ الفاظ ” اس نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا “ اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے مسلمان ہونے کے علاوہ اور کوئی نیک کام نہیں کیا تھا۔