صحیح ابن حبان
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانے پینے کی اشیاء کے احکام و مسائل
باب الضيافة - ذكر الزجر عن ترك المرء إجابة الدعوة وإن كان المدعو إليه تافها- باب: مہمان نوازی کا بیان - یہ زجر کہ دعوت کا جواب نہ دینا جائز نہیں چاہے مدعو چیز معمولی ہو
حدیث نمبر: 5292
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ ، لأَجَبْتُ ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ، لَقَبِلْتُ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اگر مجھے پائے کی دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کر لوں گا اور اگر وہ مجھے تحفے کے طور پر دیا جائے تو میں اسے قبول کر لوں گا۔ “