صحیح ابن حبان
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانے پینے کی اشیاء کے احکام و مسائل
باب الضيافة - ذكر الزجر عن أن يثوي الضيف عند من يضيفه حتى يحرجه- باب: مہمان نوازی کا بیان - یہ زجر کہ مہمان کو اس کے گھر پر ٹھہرانا اور اسے مجبور کرنا نہ کیا جائے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتَ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، وَالضِّيَافَةُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ ، وَلا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ " ، أَبُو شُرَيْحٍ الْكَعْبِيُّ : اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو ، مِنْ جِلَّةِ الصَّحَابَةِ ، عِدَادُهُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ ، مَاتَ سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ .سیدنا ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہئے جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے بھلائی کی بات کہنی چاہئے ورنہ خاموش رہنا چاہئے جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہئے۔ اہتمام کے ساتھ اس کی دعوت ایک دن اور ایک رات ہو گی عام مہمان نوازی تین دن ہو گی اور جو اس کے بعد ہو وہ صدقہ شمار ہو گا۔ البتہ مہمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے وہ اتنے دن وہاں قیام کرے کہ میزبان کو حرج میں مبتلا کر دے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوشریح کعبی کا نام خویلد بن عمرو ہے یہ جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں۔ ان کا شمار اہل حجاز میں ہوتا ہے ان کا انتقال 86 ہجری میں ہوا۔