صحیح ابن حبان
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانے پینے کی اشیاء کے احکام و مسائل
باب ما يجوز أكله وما لا يجوز - ذكر العلة التي هي مضمرة في نفس الخطاب- باب: جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ بیان کہ اس عمل کی وجہ جو خود نص میں مضمر ہے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، فَإِذَا بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، فَقَالَتِ النِّسْوَةُ اللاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ : أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ ، فَأَخْبَرُوهُ ، فَرَفَعَ يَدَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لا ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي ، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ " ، قَالَ خَالِدٌ : فَاجْتَرَرْتُهُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما بنت حارث کے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں گوہ بھنی ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کی طرف بڑھایا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود خواتین نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تو بتا دو کہ آپ کیا کھانے لگے ہیں۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک کھینچ لیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا یہ حرام ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں، لیکن یہ میرے علاقے کی خوراک نہیں ہے اس لئے میں اس سے پرہیز کرتا ہوں۔
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا (اور کھانا شروع کیا) جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرما رہے تھے۔