صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
فصل من البر والإحسان - ذكر الإخبار بأن على المرء تعقيب الإساءة بالإحسان ما قدر عليه في أسبابه باب: فصل نیکی اور احسان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ برائی کا بدلہ احسان سے دے جہاں تک اس کے اسباب میں اس کی استطاعت ہو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، أَرَادَ سَفَرًا ، فقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوْصِنِي ، قَالَ : " اعْبُدِ اللَّهَ لا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا " ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ زِدْنِي ، قَالَ : " إِذَا أَسَأْتَ ، فَأَحْسِنْ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي ، قَالَ : " اسْتَقِمْ وَلْيَحْسُنْ خُلُقُكَ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے سفر پر جانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تماللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم برائی کرو، تو اچھائی بھی کر لو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم استقامت اختیار کرو اور تمہارے اخلاق اچھے ہونے چاہئیں۔