صحیح ابن حبان
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانے پینے کی اشیاء کے احکام و مسائل
باب آداب الأكل - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل- باب: کھانے کے آداب کا بیان - یہ بیان کہ اس عمل سے منع کیوں کیا گیا
حدیث نمبر: 5233
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ فِي أَصْحَابِ الصُّفَّةِ ، " فَبَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرِ عَجْوَةٍ ، فَكُبَّتْ بَيْنَنَا ، فَجَعَلْنَا نَأْكُلُ الثِّنْتَيْنِ مِنَ الْجُوعِ ، وَجَعَلَ أَصْحَابُنَا إِذَا قَرَنَ أَحَدُهُمْ ، قَالَ لِصَاحِبِهِ : إِنِّي قَدْ قَرَنْتُ ، فَاقْرِنُوا .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اصحاب صفہ میں شامل تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عجوہ کھجوریں بھیجیں وہ ہمارے درمیان انڈیل دی گئی، تو ہم بھوک کی شدت کی وجہ سے دو کھجوریں ایک ساتھ کھانے لگے ہم میں سے کوئی ایک شخص جب دو کھجوریں ایک ساتھ کھاتا تو وہ اپنے ساتھی یہ کہہ دیتا کہ میں دو ایک ساتھ کھا رہا ہوں تو تم بھی دو دو ایک ساتھ کھاؤ۔