صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
فصل من البر والإحسان باب: فصل نیکی اور احسان -
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ ، بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ مُوسَى الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الْهُجَيْمِيِّ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مُحْتَبٌ فِي بُرْدَةٍ لَهُ ، وَإِنَّ هُدْبَهَا لَعَلَى قَدَمَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ ، وَلا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا ، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَقِي ، وَتُكَلِّمَ أَخَاكَ ، وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الإِزَارِ ، فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَلا يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَإِنِ امْرُؤٌ عَيَّرَكَ بِشَيْءٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ ، فَلا تُعَيِّرْهُ بِشَيْءٍ تَعْلَمُهُ مِنْهُ ، دَعْهُ يَكُونُ وَبَالُهُ عَلَيْهِ ، وَأَجْرُهُ لَكَ ، وَلا تَسُبَّنَّ شَيْئًا " ، قَالَ : فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ دَابَّةً وَلا إِنْسَانًا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ " أَمْرٌ فُرِضَ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ كُلِّهِمْ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ فِي كُلِّ الأَحْوَالِ ، وإفْرَاغُ الْمَرْءِ الدَّلْوَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي مِنْ إِنَائِهِ ، وَبَسْطُهُ وَجْهَهُ عِنْدَ مُكَالَمَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فِعْلانِ قُصِدَ بِالأَمْرِ بِهِمَا النَّدْبُ وَالإِرْشَادُ قَصْدًا لِطَلَبِ الثَّوَابِ .سیدنا سلیم بن جابر ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی چادر کو احتباء کے طور پر لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کا پلو آپ کے پاؤں پر تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تماللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرو اور تم کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو (خواہ وہ نیکی یہ ہو) کہ تم اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے کے برتن میں انڈیل دو، یا اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے مل لو اور تم تہبند لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر کی علامات میں سے ہے اوراللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا اور اگر کوئی شخص تمہیں کسی ایسی خامی کے حوالے سے عار دلائے جس کے بارے میں اسے یہ علم ہو کہ یہ خامی تمہارے اندر موجود ہے، تو تم اسے کسی ایسی چیز کے حوالے سے عار نہ دلاؤ جس کے بارے میں تم یہ جانتے ہو کہ یہ چیز اس میں ہے، تو وہ جو کرتا ہے تم اسے کرنے دو، اس کا وبال اس کے ذمے ہو گا اور تمہیں تمہارا اجر مل جائے گا اور تم کسی کو برا ہرگز نہ کہنا ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد میں نے کبھی کسی جانور یا انسان کو برا نہیں کہا:۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” تم پراللہ تعالیٰ سے ڈرنا لازم ہے ۔“ یہ ایک ایسا حکم ہے، جو تمام مخاطب لوگوں پر فرض ہے کہ وہ تمام حالتوں میںاللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں، جبکہ اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے شخص کے ڈول میں پانی انڈیل دینا یا اپنے مسلمان بھائی سے بات چیت کرتے وقت اسے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ایسے فعل ہیں، جن کا حکم دینے کا مقصد استحباب ہے، اور مقصد ثواب کا حصول ہے۔