صحیح ابن حبان
كتاب المزارعة— کتاب: زرعی شراکت کے احکام و مسائل
ذكر العلة التي من أجلها زجر عن كراء المزارع- باب: - یہ وضاحت کہ مزارعت سے ممانعت کی علت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5195
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمْ يُحَرِّمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُزَارَعَةَ وَلَكِنْ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْفُقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ آپ نے لوگوں کو یہ حکم دیا ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھائی کریں۔