صحیح ابن حبان
كتاب القضاء— کتاب: عدالت و فیصلے کے احکام و مسائل
ذكر الزجر عن أخذ المرء ما حكم له الحاكم إذا علم بينه وبين خالقه ضده- باب: - یہ تنبیہ کہ اگر انسان جانتا ہو کہ حاکم کا فیصلہ اللہ کے ہاں اس کے خلاف ہے تو اسے وہ چیز نہیں لینی چاہیے جس کا فیصلہ اس کے حق میں ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 5071
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ يَكُونُ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میں ایک انسان ہوں ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے موقف کو پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز ہو تو جس کے حق میں، میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ دے دوں تو میں نے اس کو جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔ “