صحیح ابن حبان
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب الفلس - ذكر خبر ثان يصرح بأن خطاب هذا الخبر ورد للبائع سلعته دون المودع إياها- باب: دیوالیہ کے احکام کا بیان - دوسری حدیث کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ یہ خطاب بائعِ مال سے ہے نہ کہ امانت رکھنے والے سے
حدیث نمبر: 5038
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الْبَائِعُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا دُونَ الْغُرَمَاءِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص مفلس ہو جائے اور اپنے سامان کو فروخت کرنے والا شخص بعینہ اپنا سامان اس کے پاس پائے تو باقی قرض خواہوں کی بہ نسبت وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا۔ “