صحیح ابن حبان
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب الربا - ذكر الزجر عن بيع الفضة بالفضة والذهب بالذهب إلا مثلا بمثل- باب: سود کا بیان - چاندی کو چاندی اور سونا کو سونا کے بدلے برابری کے بغیر بیچنے سے روک کا بیان
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ ، إِلا سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، وَأَمَرَ أَنْ يَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شَاءَ ، وَالذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شَاءَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ شَاءَ أَرَادَ بِهِ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ .سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، چاندی کے عوض میں چاندی کو یا سونے کے عوض میں سونے کو فروخت کیا جائے البتہ برابر برابر (لین دین ہو، تو جائز ہے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے سونے کے عوض میں چاندی کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے یا چاندی کے عوض سونے کو جیسے چاہے فروخت کر دیا جائے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” جیسے چاہے “ اس سے مراد یہ ہے: جب وہ لین دین دست بدست ہو۔