صحیح ابن حبان
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب الربا - ذكر البيان بأن بيع الأشياء التي وصفناها بأجناسها وبينهما فضل ربا- باب: سود کا بیان - بیان کہ مذکورہ اشیاء کو اپنی جنس کے بدلے کمی یا زیادتی کے ساتھ بیچنا سود ہے
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِئَةِ دِينَارٍ : قَالَ : فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ، وَقَالَ : حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ لا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءً وَهَاءً " .سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے ایک سو دینار کی بیع صرف کرنا چاہی، وہ کہتے ہیں: سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا ہم دونوں نے سودا طے کر لیا۔ انہوں نے میرے ساتھ بیع صرف کر لی اور سونا حاصل کر لیا وہ اسے اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میرا منشی غابہ (جنگل) سے آتا ہے (تو میں تمہیں ادائیگی کرتا ہوں) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن لی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم تم اس سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گے جب تک تم اس سے وصولی نہیں کر لیتے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ” چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے۔ ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین سود ہے۔ ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ “