صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب إفشاء السلام وإطعام الطعام - ذكر الأمر بابتداء السلام للقليل على الكثير والماشي على القاعد والراكب على الماشي باب: سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ تھوڑے لوگ زیادہ پر، چلنے والا بیٹھے ہوئے پر اور سوار چلنے والے پر سلام کا آغاز کرے۔
حدیث نمبر: 497
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِيُسَلِّمِ الْفَارِسُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ " .سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” سوار شخص کو پیدل چلنے والے کو سلام کرنا چاہئے اور پیدل چلنے والے شخص کو بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرنا چاہئے اور تھوڑے لوگوں کو زیادہ لوگوں کو سلام کرنا چاہئے ۔“