صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب إفشاء السلام وإطعام الطعام - ذكر الأمر بالسلام للمرء عند الانتهاء إلى نادي قوم مع استعماله مثله عند رجوعه عنهم باب: سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جب کوئی شخص کسی قوم کی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور واپسی پر بھی اسی طرح سلام کرے۔
حدیث نمبر: 495
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ ، وَإِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ ، فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب کوئی شخص کسی محفل میں آئے، تو اسے سلام کرنا چاہئے اور جب وہ اٹھے، تو سلام کرنا چاہئے، کیونکہ پہلا دوسرے کے مقابلے زیادہ حقدار نہیں ہوتا ۔“