صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب إفشاء السلام وإطعام الطعام - ذكر الأمر بالسلام لمن أتى نادي قوم فجلس إليهم واستعمال مثله عند القيام باب: سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جب کوئی شخص کسی قوم کی مجلس میں داخل ہو اور ان کے پاس بیٹھے تو سلام کرے، اور جب وہاں سے اٹھے تو بھی سلام کرے۔
حدیث نمبر: 494
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ، فَإِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ ، فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص کسی محفل میں آئے، تو اسے سلام کرنا چاہئے پھر اگر اسے وہاں بیٹھنا مناسب لگے، بیٹھ جائے اور جب کھڑا ہو، تو سلام کرنا چاہئے، کیونکہ پہلا دوسرے کے مقابلے میں زیادہ حق دار نہیں ہوتا ۔“