صحیح ابن حبان
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب بيع المدبر - ذكر العلة التي من أجلها أجاز المصطفى صلى الله عليه وسلم بيع المدبر- باب: بیعِ مدبر کا بیان - وہ علت بیان کی گئی جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کے بیچنے کی اجازت دی۔
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو الْمُعَدِّلُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ ، وَاسْمُ الْغُلامِ يعقوب ، والذي أعتقه يدعى أبا مذكور ، ولم يكن له مال غيره ، فدعا به النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ يَشْتَرِي هَذَا مِنِّي ؟ " فَاشْتَرَاهُ مِنْهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ دَعَا بِهِ ، فَقَالَ : " إِذَا كُنْتَ فَقِيرًا فَأَبْدَأُ بِنَفْسِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى عِيَالِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى قَرَابَتِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهَا هُنَا وَهَهُنَا " ، وَكَانَ إِذَا حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ : كَانَ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلٍ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کر دیا۔ اس غلام کا نام یعقوب تھا۔ اور جن صاحب نے اسے آزاد کیا تھا ان کا نام ابومذکور تھا۔ ان صاحب کے پاس اس غلام کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو بلوایا اور دریافت کیا۔ اسے کون مجھ سے خریدے گا تو سیدنا نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو عدی بن کعب سے تھا انہوں نے آٹھ سو درہم کے عوض میں وہ غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خرید لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو بلایا اور فرمایا جب تم غریب ہو تو اپنی ذات سے آغاز کرو اگر تمہارے پاس اضافی مال ہو تو اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرو اگر پھر بھی اضافی ہو تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرو اگر پھر بھی اضافی ہو تو پھر ادھر اُدھر (یعنی اللہ کی راہ میں) خرچ کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو یہ بھی فرمایا کرتے تھے: وہ ایک قبطی غلام تھا جو ایک سال کے اندر ہی فوت ہو گیا۔