صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الذمي والجزية - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه قبل- باب: اہلِ ذِمّہ اور جِزیہ کا بیان - دوسری خبر جو پچھلی بات کی صحت کی تصریح کرتی ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ غُلامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسْلِمْ ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ : أَطِعِ أبا الْقَاسِمَ ، قَالَ : فَأَسْلَمَ ، قَالَ : فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک یہودی لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس تشریف لائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا تم اسلام قبول کر لو۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے باپ نے اس سے کہا: تم سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لو۔ راوی کہتے ہیں: تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کے پاس سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے اس کو جہنم سے بچا لیا۔