صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الموادعة والمهادنة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذه السنة تفرد بها جابر بن عبد الله- باب: صلح و جنگ بندی کا بیان - وہ خبر جو اس قول کو باطل کرتی ہے کہ اس سنت کو صرف جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا۔
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : " بَايَعَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُوَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ وَجْهِهِ ، فَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ ، وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لا نَفِرَّ وَهُمْ يَوْمَئِذٍ أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِئَةٍ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الصَّحِيحُ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِئَةٍ عَلَى مَا قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ " .سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پھر حدیبیہ کے موقع پر لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت درخت کے نیچے موجود تھے میں نے اس درخت کی ایک شاخ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے اوپر اٹھا رکھی تھی۔ ہم نے موت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہیں کی تھی بلکہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت اس بات پر کی تھی کہ ہم فرار اختیار نہیں کریں گے۔ اس دن لوگوں کی تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:) درست یہ ہے کہ صحابہ کرام کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، جیسا کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا ہے۔