صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الموادعة والمهادنة - ذكر البيان بأن العقد إذا وقع بين المسلمين وأهل الحرب لا يحل نقضه إلا عند الإعلام أو انقضاء المدة- باب: صلح و جنگ بندی کا بیان - بیان کہ جب مسلمانوں اور اہلِ حرب کے درمیان معاہدہ ہو جائے تو وہ صرف اطلاع دینے یا مدت پوری ہونے پر ہی توڑا جا سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَقْدٌ ، وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلادِهِمْ وَهُوَ يُرِيدُ إِذَا انْقَضَى الْعَقْدُ أَنْ يُغِيرَ عَلَيْهِمْ ، فَإِذَا شَيْخٌ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ لا غَدْرَ ، فَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا كَانَ بَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَلا يَحُلُّ عُقْدَةٌ حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهَا ، أَوْ يُنْبَذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ " .سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل روم کے درمیان معاہدہ چل رہا تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے علاقے کی طرف روانہ ہونے لگے، ان کا خیال تھا، جیسے ہی معاہدہ کی مدت ختم ہو گی وہ فوراً ان پر حملہ کر دیں گے۔ تو وہاں ایک عمر رسیدہ صاحب نے یہ کہا: اللہ اکبر! اللہ اکبر! (معاہدہ کی) خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔ (سلیم بن عامر کہتے ہیں) وہ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جب کسی قوم کے درمیان کوئی معاہدہ چل رہا ہو، تو اس کی خلاف ورزی اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک اس کی انتہائی مدت پوری نہیں ہو جاتی، یا پھر اسے برابری کی بنیاد پر ان کی طرف پھینک نہیں دیا جاتا۔ “