صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الهجرة - ذكر الإخبار عن تفضيل الهجرة للمسلمين عند تباين نياتهم فيها- باب: ہجرت کا بیان - ارادات کے اختلاف کی صورت میں ہجرت کرنے والوں کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 4863
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ ، فَأَمَّا هِجْرَةُ الْبَادِي يُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ ، وَأَمَّا هِجْرَةُ الْحَاضِرِ فَهِيَ أَشَدُّهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا " .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہجرت دو طرح کی ہوتی ہے دیہاتی شخص کی ہجرت یہ ہے: جب اسے بلایا جائے تو وہ آ جائے اور جب اسے حکم دیا جائے تو فرماں برداری کرے۔ جہاں تک شہری شخص کی ہجرت کا تعلق ہے تو آزمائش کے اعتبار سے یہ شدید ہوتی ہے اور اجر بھی اس کا زیادہ ہے۔