صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الغلول - ذكر ترك المصطفى صلى الله عليه وسلم الصلاة على من مات وقد غل في سبيل الله جل وعلا- باب: الغلول کا بیان - اس بات کا ذکر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر نماز نہ پڑھی جو راہِ خدا میں غلول کرتا تھا
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَتَغَيَّرَتْ وجُوهُ الْقَوْمِ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، فَفَتَحْنَا مَتَاعَهُ ، فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ لا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کا غزوہ خیبر کے موقع پر انتقال ہو گیا۔ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کے انتقال کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو تو اس بات پر لوگوں کے چہرے متغیر ہو گئے (یعنی وہ پریشان ہو گئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی تھی۔ (راوی بیان کرتے ہیں) جب ہم نے اس کے ساز و سامان کا جائزہ لیا تو اس میں یہودیوں کا ایک ہار ملا جس کی قیمت دو درہم بھی نہیں ہو گی۔