صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الغنائم وقسمتها - ذكر ما يستحب للإمام أن ينفل السرية إذا خرجت عند البعث الشديد في البدأة والرجعة- باب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ سخت مہم پر نکلنے والے سَریّہ کو آغاز اور واپسی پر اضافی انعام دے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ النَّحَّاسُ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى يَذْكُرَانِ النَّفَلَ ، فَقَالَ عَمْرٌو لا نَفْلَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : شَغَلَكَ أَكْلُ الزَّبِيبِ بِالطَّائِفِ ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ ، وَفِي الرَّجْعَةِ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ " .رجاء بن ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: میں نے عمرو بن شعیب اور سلیمان بن موسیٰ کو (مال غنیمت میں سے) نفلی ادائیگی کے بارے بات چیت کرتے ہوئے سنا۔ عمرو نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (مال غنیمت میں سے) کوئی نفلی ادائیگی نہیں کی جا سکتی۔ اس پر سلیمان بن موسیٰ نے کہا: آپ طائف میں کشمش کھانے میں ہی مصروف رہے (اور علم حاصل نہ کر سکے) مکحول نے زیاد بن جاریہ لخمی کے حوالے سے سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آغاز میں خمس کے بعد چوتھائی حصہ نفلی طور پر عطا کیا تھا اور واپسی پر خمس کے بعد تہائی حصہ عطا کیا تھا۔ “