صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الغنائم وقسمتها - ذكر الإخبار عما يجب على المسلمين استعماله عند فتوح الدنيا عليهم- باب: غنائم اور ان کی تقسیم کا بیان - جب اللہ دنیا مسلمانوں پر کھول دے تو غنائم میں کن باتوں کا استعمال واجب ہوتا ہے اس کی خبر۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ بِالرِّيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ جَبَّرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ آدَمَ فِيهَا أَرْبَعُونَ رَجُلا ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ مَفْتُوحُونَ ، وَمَنْصُورُونَ ، وَمُصِيبُونَ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ مِنْكُمْ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ ، وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے سے بنے ہوئے خیمے میں تشریف فرما تھے، جس میں چالیس افراد موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” تمہیں فتوحات نصیب ہوں گی، تمہاری مدد کی جائے گی، تمہیں (مال و دولت) نصیب ہو گا تم میں سے جو بھی اس زمانے کو پائے، وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے نیکی کا حکم دیتا رہے اور برائی سے منع کرتا رہے اور جو شخص میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے۔ “