صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر خبر ثان يدل على أن النساء والصبيان من أهل الحرب يقتلون إذا قاتلوا- باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - دوسری روایت کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ جنگ کے اہل عورتیں اور بچے اگر لڑیں تو انہیں قتل کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بَحْرَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ وَالنَّاسُ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ ، أَدْرِكْ خَالِدًا ، فَقُلْ لَهُ : لا تَقْتُلْ ذُرِّيَّةً وَلا عَسِيفًا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الْمُرَقَّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ، وَسَمِعَهُ مِنْ جَدِّهِ ، وَجَدُّهُ رِيَاحٌ الرَّبِيعُ ، وَهُمَا مَحْفُوظَانِ .سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا جس کے اردگرد لوگ جمع تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تو جنگ میں حصہ نہیں لیتی، خالد کے پاس جاؤ اور کہو کہ بچوں اور ملازمین کو قتل نہ کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مرقع بن صیفی نے یہ روایت سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے انہوں نے یہ روایت اپنے دادا سے بھی سنی ہے ان کے دادا سیدنا ریاح بن ربیع رضی اللہ عنہ ہیں یہ دونوں روایات محفوظ ہیں۔