صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر ما يستحب للإمام إذا أراد مواقعة الأعداء أن يحيي تلك الليلة فإذا أصبح واقعها- باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اگر امام دشمن کے مقابلے کا ارادہ کرے تو مستحب ہے کہ وہ اس رات کو عبادت اور دعا میں گزارے اور صبح میدان میں آئے۔
حدیث نمبر: 4759
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو الْجَهْمِ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَصْبَحَ بِبَدْرٍ مِنَ الْغَدِ أَحْيَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ كُلَّهَا وَهُوَ مُسَافِرٌ " .سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ غزوہ بدر کے دن صبح کے وقت تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر جاگتے رہے تھے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسافر تھے۔