صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر ما يستحب للإمام أن يكون إنشاؤه السرية بالغدوات- باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - مستحب ہے کہ سرِیہ کی تشکیل اور آغاز روزانہ کے اوقات (الغدوات) میں ہو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً ، أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلا تَاجِرًا ، وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَأَصَابَ مَالا .سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اے اللہ! میری امت کے صبح کے کاموں میں ان کے لیے برکت رکھ دے۔ “ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی مہم یا لشکر روانہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دن کے ابتدائی حصے میں روانہ کرتے تھے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ ایک تاجر تھے وہ دن کے ابتدائی حصے میں اپنی تجارت کا سامان بھجوا دیا کرتے تھے۔ وہ صاحب حیثیت بھی ہو گئے اور انہیں بہت سا مال بھی حاصل ہو گیا۔