صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر البيان بأن صاحب السرية إذا خالف الإمام فيما أمره به كان على القوم أن يعزلوه ويولوا غيره- باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - اگر سرِیّہ کا سردار امام کے حکم کی مخالفت کرے تو لوگوں پر لازم ہے کہ اسے معزول کرکے دوسرے کو مقرر کریں
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَسَلَّحَ رَجُلا سَيْفًا ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا ، مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا لامَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَعَجَزْتُمْ إِذَا أَمَّرْتُ عَلَيْكُمْ رَجُلا ، فَلَمْ يَمْضِ لأَمْرِي الَّذِي أَمَرْتُ ، أَوْ نَهَيْتُ أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ آخَرَ يُمْضِي أَمْرِي الَّذِي أَمَرْتُ " .سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی تو آپ نے ایک شخص کو تلوار پہنا دی۔ جب ہم لوگ واپس آئے تو میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی بات پر اتنی ملامت کی ہو (جتنی اس بات پر کی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ عاجز آ گئے تھے کہ جب میں نے تم لوگوں پر ایک شخص کو امیر مقرر کیا تھا اور اس نے اس حکم پر عمل نہیں کیا جو میں نے اسے دیا تھا یا جس سے میں نے منع کیا تھا تو تم اس کی جگہ کسی دوسرے کو امیر مقرر کر دیتے جو میرے اس حکم پر عمل درآمد کرتا۔ جو حکم میں نے جاری کیا تھا۔