صحیح ابن حبان
كتاب السير— کتاب: جہاد و غزوات کے احکام و مسائل
باب الخروج وكيفية الجهاد - ذكر الإخبار عن جواز تخلف الإمام عن السرية إذا خرجت في سبيل الله جل وعلا- باب: خروج اور جہاد کا طریقہ کا بیان - امام کا کسی سرِیّہ کے نکلنے پر خود پیچھے رہ جانا جائز ہونا
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لأَحْبَبْتُ أَنْ لا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ ، وَلا يَجِدُونَ مَا يَتَحَمَّلُونَ عَلَيْهِ ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي ، وَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ، ثُمَّ أَحْيَا ، فَأُقْتَلُ ، ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں کسی بھی مہم سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کی راہ میں نکلتی ہے لیکن میرے پاس ان لوگوں کو فراہم کرنے کے لیے سواریاں نہیں ہیں اور ان لوگوں کے پاس بھی سواریاں نہیں ہیں اور انہیں یہ بات بھی پسند نہیں ہے وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔ میری یہ خواہش ہے میں اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہوا شہید ہو جاؤں پھر مجھے زندہ کیا جائے پھر میں شہید ہو جاؤں، پھر مجھے زندہ کیا جائے پھر میں شہید ہو جاؤں۔